بینگلورو ، 29 / مئی (ایس او نیوز) سابق اور سیٹنگ ایم پی / ایم ایل ایز کے خلاف معاملات کی سماعت کرنے والی بینگلورو کی خصوصی عدالت میں وزیر اعظم نریندرا مودی کے خلاف جو پرائیویٹ معاملہ درج کیا گیا تھا اس پر عدالت کی طرف سے 13 جون کو فیصلہ سنایا جائے گا ۔
یاد رہے کہ راجستھان میں لوک سبھا الیکشن کے لئے اسٹار کیمپینر کے طور پر وزیر اعظم نریندرا مودی نے مبینہ طور پر ایک مخصوص قوم کے خلاف جو نفرت انگیز تقریر کی تھی اس پر کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے حقوق انسانی کے لئے جدوجہد کرنے والے سرگرم کارکن ضیاء الرحمٰن نعمانی نے مقدمہ داخل کیا ہے ۔ اسپیشل کورٹ کے جج کے این شیوا کمار نے بتایا کہ اس مقدمے پر وہ اپنا فیصلہ 13 جون کو سنائیں گے ۔
عدالت میں پیروی کرتے ہوئے مدعی کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے تفتیش کے لئے اس معاملے کو مقامی پولیس کے پاس بھیج دے ۔ وکیل استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم نریندرا مودی نے کانگریس پارٹی کے اقتدار پر آنے کی صورت میں منگل سوتر چھین لینے اور یہ سونا ایک دوسری قوم کے لوگوں کو دینے کی بات کہتے ہوئے سماج کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے ۔
وکیل استغاثہ نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ وزیر اعظم نے ایک مخصوص قوم کے افراد کو دراندازی کرنے والے غاصب قرار دیا ۔ اس لئے عدالت کو اس معاملے کو تعزیرات ہند کی دفعہ 153A,153B, 295A, 503, 504 اور 505 کے تحت قابل شنوائی مانتے ہوئے مقامی پولیس کو اس معاملے کی جانچ کرنے کے احکام جاری کرنا چاہیے ۔
شکایت کنندہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے ابتدا میں بینگلورو کے امرتھا ہلّی پولیس اسٹیشن جا کر ایف آئی آر درج کروانے کی کوشش کی، مگر وہاں پر پولیس نے بتایا کہ وزیر اعظم کے خلاف کیس درج کرنا اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا ۔ پھر اس نے وزیر اعظم کو نفرت انگیز تقاریر کرنے سے روکنے کی کوشش کے طورپر الیکشن کمیشن آف انڈیا سے بھی رجوع کیا اور اسی کے ساتھ خصوصی عدالت میں پرائیویٹ شکایت درج کروائی ہے ۔